عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت
ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں، اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان کا اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔
الف
قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ
ب
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ (دو سو دس احادیث مبارکہ) سے یہ مسئلہ ثابت ہے۔
ج
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا، چنانچہ امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ اپنی آخری کتاب ’’خاتم النبیین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں
و اوّل اجماعے کہ دریں امت منعقد شدہ اجماع بر قتل مسیلمہ کذاب بودہ کہ بسبب دعوئ نبوت بود، شنائع دگروے صحابہؓ رابعد قتل وے معلوم شدہ، چنانکہ ابن خلدون آوردہ سپس اجماع بلا فصل قرناً بعد قرنٍ برکفر و ارتداد و قتل مدعی نبوت ماندہ و ہیچ تفصیلے از بحث نبوت تشریعیہ و غیر تشریعیہ نبودہ
ترجمہ
اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا، جس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا، اس کی دیگر گھنائونی حرکات کا علم صحابہ کرامؓ کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا، جیسا کہ ابن خلدونؒ نے نقل کیا ہے، اس کے بعد قرناً بعد قرنٍ مدعی نبوت کے کفر و ارتداد پر ہمیشہ اجماع بلافصل رہا ہے، اور نبوت تشریعیہ یا غیر تشریعیہ کی کوئی تفصیل کبھی زیر بحث نہیں آئی۔ (خاتم النبیین ص :۶۷، ترجمہ ص :۱۹۷
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اپنی تصنیف ’’مسک الختام فی ختم نبوت سیدالانامؐ‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ
امت محمدیہ ؐمیں سب سے پہلا اجماع جو ہوا، وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔
(احتساب قادیانیت ج:۲، ص:۱۰
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لئے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ کی کل تعداد ۲۵۹ ہے
(رحمۃ للعالمین ج :۲، ص:۲۱۳ قاضی سلمان منصور پوریؒ
اور عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہؓ اور تابعینؒ کی تعداد بارہ سو ہے۔ (ختم نبوت کامل ص:۳۰۴ حصہ سوم از مفتی محمد شفیعؒ
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرامؓ ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کرگئی۔ اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ انہی حضرات صحابہ کرامؓ
میں سے ایک صحابی حضرت حبیب بن زید انصاری خزرجیؓ کی
شہادت کا واقعہ ملاحظہ ہو
حبیب بن زید … الانصاری الخزرجی … ھوالذی ارسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی مسیلمۃن الکذاب الحنفی صاحب الیمامہ فکان مسیلمۃ اذا قال لہ اتشھد ان محمد ا رسول اللہ قال نعم واذا قال اتشھد انی رسول اللہ قال انا اصم لا اسمع ففعل ذلک مرارا فقطعہ مسیلمۃ عضوا عضوا فمات شہیدا
اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ج:۱،ص:۴۲۱ طبع بیروت
ترجمہ
حضرت حبیب بن زید انصاریؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیبؓ کو کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیبؓ نے فرمایا ہاں، مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ) بھی اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت حبیبؓ نے جواب میں فرمایا کہ میں بہرا ہوں تیری یہ بات نہیں سن سکتا، مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا، وہ یہی جواب دیتے رہے اور مسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا حتی کہ حبیبؓ بن زید کی جان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہید کردیا گیا۔
اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے
اب حضرات تابعینؓ میں سے ایک تابعیؓ کا واقعہ بھی ملاحظہ ہو
حضرت ابو مسلم خولانیؓ جن کا نام عبداللہ بن ثوبؓ ہے اور یہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتش نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے لیکن سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہوا۔ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لئے مجبور کیا کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے حضرت ابو مسلم خولانیؓ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابو مسلمؓ نے انکار کیا پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابو مسلم نے فرمایا ہاں، اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی اور حضرت ابو مسلم ؓ کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ کو بے اثر فرمادیا، اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقأ پر ہیبت سی طاری ہوگئی اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلاوطن کردو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیروئوں کے ایمان میں تزلزل نہ آجائے، چنانچہ انہیں یمن سے جلاوطن کردیا گیا۔ یمن سے نکل کر ایک ہی جائے پناہ تھی، یعنی مدینہ منورہ، چنانچہ یہ سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلے، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آفتاب رسالتؐ روپوش ہوچکا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرماچکے تھے، اور حضرت صدیق اکبرؓ خلیفہ بن چکے تھے، انہوں نے اپنی اونٹنی مسجد نبویؐ کے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر آکر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کردی۔ وہاں حضرت عمرؓ موجود تھے ۔ انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو نماز پڑھتے دیکھا تو ان کے پاس آئے اور جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو ان سے پوچھا: آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یمن سے! حضرت ابو مسلمؓ نے جواب دیا۔ حضرت عمرؓ نے فوراً پوچھا: اللہ کے دشمن (اسود عنسی) نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا، اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا، بعد میں ان صاحب کے ساتھ اسود نے کیا معاملہ کیا؟ حضرت ابو مسلمؓ نے فرمایا: ان کا نام عبداللہ بن ثوب ہے۔ اتنی دیر میں حضرت عمرؓ کی فراست اپنا کام کرچکی تھی، انہوں نے فوراً فرمایا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں؟ حضرت ابو مسلم خولانیؓ نے جواب دیا: ’’جی ہاں!‘‘ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرطِ مسرت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا، اور انہیں لے کر حضرت صدیق اکبرؓ کی خدمت میں پہنچے، انہیں صدیق اکبرؓ کے اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہؐ کے اس شخص کی زیارت کرادی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا تھا۔
(حلیۃ الاولیأ ص ۱۲۹، ج۲، تہذیب ج ۶ ص ۴۵۸، تاریخ ابن عساکر ص۳۱۵، ج۷، جہاں دیدہ ص ۲۹۳ و ترجمان السنۃ ص ۳۴۱ ج ۴
© Copyright 2025, All Rights Reserved